خزاں اس گلستاں میں آتی رہی ہے
ہوا سوکھے پتے اڑاتی رہی ہے
یہاں پھول کھل کے، بہاروں سے مل کے
بچھڑتے رہے، شکوہ نہ کر گلہ نہ کر
یہاں تیرے اشکوں کی قیمت نہیں ہے
رحم کرنا دنیا کی عادت نہیں ہے
کسی نے نہ دیکھا، یہاں خوں کے آنسو
جڑتے رہے، شکوہ نہ کر گلہ نہ کر




0 Comments